اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بحرینی ویب سائٹ مرآة البحرین نے رپورٹ کیا ہے کہ وزارتِ انصاف کی جانب سے ’’وعظ و ارشاد کے اجازت نامے‘‘ کے نام سے جاری کیے گئے نئے فیصلے کے خلاف شیعہ عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور مختلف علاقوں میں اس فیصلے کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، وزارتِ انصاف کے نئے فیصلوں کے بعد بحرین کے مختلف علاقوں سے 15 سے زائد احتجاجی بیانات جاری کیے گئے۔ ان بیانات میں حکومت کی جانب سے مذہبی امور میں براہِ راست مداخلت اور حسینی شعائر کو سرکاری نگرانی میں لانے کی کوشش کی مخالفت کی گئی۔
احتجاجی بیانات میں واضح کیا گیا کہ حسینیہ اور عزاداری کی مجالس سرکاری احکامات یا انتظامی ہدایات کے تحت چلنے والے ادارے نہیں ہیں۔ اسی طرح منبرِ حسینی کوئی سرکاری ملازمت نہیں بلکہ ایک دینی ذمہ داری اور بحرینی شیعہ معاشرے کی مذہبی شناخت کا اہم حصہ ہے۔
بحرینی شہریوں نے علما، خطبا اور ذاکرین کو حکومت کی جانب سے مقرر کردہ سخت شرائط اور ضابطوں کا پابند بنانے کی بھی مخالفت کی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے فیصلے مذہبی اداروں کی آزادی کو محدود کرتے ہیں اور شیعہ شہریوں کے مذہبی شعائر ادا کرنے کے حق میں مداخلت کے مترادف ہیں۔
مختلف علاقوں میں احتجاج
رپورٹ کے مطابق، بیانات کے علاوہ الدراز، سترہ، السنابس اور کرانہ سمیت بحرین کے مختلف علاقوں میں مظاہرے اور احتجاجی اجتماعات بھی ہوئے۔ مظاہرین نے حکومت سے مذہبی امور میں مداخلت ختم کرنے اور نئے فیصلوں کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی بیانات میں عوام سے نئے حکومتی طریقہ کار کو قبول نہ کرنے کی اپیل
آپ کا تبصرہ